FORGOT YOUR DETAILS?

تاریخ:
نیشنل انسٹیٹیوٹ آف فوک اینڈ ٹریڈیشنل ہیرٹیج، (لوک ورثہ) کا قیام ۴۷۹۱ء میں عمل میں آیا اور پاکستان کے مرئی اور غیر مرئی ثقافتی ورثے پر تحقیق، اسے جمع کرنا، اس کی ڈاکومنٹیشن، ثقافتی ورثے کو محفوظ بنانا اور اس کا فروغ وغیرہ اس ادارے کی ذمہ داریاں قرار پائیں۔
لوک ورثہ کو ۷۱ ستمبر ۲۰۰۲ء کو جاری کردہ ایک حکومتی آرڈینس کے تحت ایک خود مختار ادارے کا درجہ حاصل ہے اور ادارے کے معاملات بورڈ آف گورنرز جس کا سربراہ وفاقی وزیر اطلاعات، نشریات و قومی ورثہ ہوتا ہے، کے تحت چلائے جاتے ہیں۔
ایگزیکٹو ڈائریکٹر ادارے کے تمام انتظامی اور تکنیکی معاملات کا ذمہ دار ہوتا ہے۔

لوک ورثہ کے اغراض و مقاصد:
  • تحقیق، خاص طریقہ کار کے مطابق ثقافتی اشیاء معلومات کی یکجائی، باظابطہ اندراج، سائنسی اصولوں کے تحت انہیں محفوظ بنانا، اس کے علاوہ ثقافتی اقدار و روایات، زبانی روایات اور ثقافت کے دیگر پہلوؤں کی تحقیق و حفاظت۔
  • پاکستانی ثقافت کی بنیادوں کو مضبوط بنانا، ان کی تلاشِ نو، ان کی ازسر نو تشکیل اور پاکستان کی اصل ثقافتی شناخت کی پہچان کے لئے کام کرنا۔
  • قافتی کمپلیکس، میوزیم وغیرہ کی تشکیل جہاں فنون و دستکاریوں اور ثقافتی اشیاء کی نمائش، ان کی ڈاکومنٹیشن اور انہیں آنے والی نسلوں کے لئے محفوظ کرنا۔
  • ثقافتی صنعت کی تشکیل، فنون و دستکاریوں کی گیلری، دستکار ویلج کا قیام اور میلوں وغیرہ کا اہتمام۔
  • پاکستان کے ثقافتی ورثے اور ثقافتی صنعت کو عوامی جانکاری کے تحت محفوظ بنانا اور اس کی ترویج۔
  • مقاصد کے حصول کی خاطر مطالعہ، تحقیق، سروے وغیرہ کے ذریعے مواد کا حصول تا کہ پروگراموں، پراجیکٹس وغیرہ کے لئے عملی تجاویز تیار کی جا سکیں۔
  • اپنے سٹاف کو باقاعدہ عملی تربیت اور معاونت کی فراہمی، اس مقصد کے لئے این جی اوز، کمیونٹی بیسڈ اداروں، تعلیمی اداروں کے ساتھ تربیتی پروگراموں میں معاونت اور اُن کی خدمات کی خرید، ورکشاپس،سیمنار،اشاعتی پروگرام، اندرون و بیرون ملک سکالر شپ، جیسا بھی بورڈ مناسب سمجھے۔
  • جدید مواصلاتی اور میڈیا ٹیکنیک کو بروئے کار لاتے ہوئے معلومات کو بہتر بنانا، مقامی ثقافت کے مختلف پہلوؤں کو وسیع تر معنوں میں سمجھنا۔
TOP