FORGOT YOUR DETAILS?

ورثہ میوزیم:
یہ میوزیم جسے قبل ازیں فوک آرٹ میوزیم کے نام سے جانا جاتا تھا ابتدائی طور پر ۲۸۹۱ء میں قائم کیا گیا تھاجو کہ بیس ہزار مربع فٹ رقبے میں مشتمل ہے۔ بعد ازاں اسے مزید بڑا اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کر کے ۴۰۰۲ء میں اس کا از سر نو افتتاح کیا گیا اور اسے ”پاکستان کی نسلیات کا قومی عجائب خانہ“ جو ”ورثہ میوزیم“ کے نام سے معروف ہے، نام دیا گیا۔ اس میوزیم کی سب سے اہم اور خاص بات یہ ہے کہ اس میں پاکستان کی تمام معروف اور غیر معروف قوموں، لوگوں، دور اور نزدیک کے تمام علاقوں کی موجودہ اورقدیم تہذیب وثقافت کو بھر پور انداز میں نمائش کیا گیا ہے۔
اس کا بنیادی مقصد پاکستان کی گرانقدر ثقافتی روایات اور فنون، طرز زندگی وغیرہ کو محفوظ کر کے ان سے آنے والی نسلوں کو روشناس کروانا اور انہیں اپنی ثقافت پر فخر کرنے اور اسے جاننے کا موقع فراہم کرنا ہے۔
پاکستان میں موجود زیادہ تر میوزیم قدیم تاریخی اداوار کو پیش کرتے ہیں جبکہ ورثہ میوزیم پاکستان کا واحد میوزیم ہے جہاں پاکستان میں رہنے والی تمام رنگ و نسل اور قوموں کے زندہ ورثے اور اُن کے فنون کو محفوظ کیا گیا ہے اور یہ واحد میوزیم ہے جہاں پاکستان کے معروف اور قریب کے علاقوں کے علاوہ دور دراز اور مشکل ترین علاقوں کی ثقافت کو بھی محفوظ کر کے پیش کیا گیا ہے۔ یوں بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ لوک ورثہ کا”ورثہ میوزیم“ پورے پاکستان کی تہذیب و ثقافت کا منظر ایک چھت تلے پیش کرتا ہے۔
نئے ورثہ میوزیم کا موجودہ رقبہ ساٹھ ہزار مربع فٹ ہے جو بے شمار گیلریوں، پانچ بڑے نمائشی ھالوں اور ایک ورثہ لائبریری پر مشتمل ہے۔

TOP