FORGOT YOUR DETAILS?

ایگزیکٹو ڈایریکٹر کا پیغام
میں فخر محسوس کرتی ہوں کہ مجھے ایگزیکٹو ڈائریکٹر لوک ورثہ کی ذمہ داریاں سونپی گئیں۔ اس سے قبل بھی میں نے اس ادارے میں ۸۸۹۱ میں خدمات سرانجام دیں تھیں جب میں امریکہ سے اپنی پی ایچ ڈی مکمل کر کے واپس آئی تھی۔ اُس وقت میں ادارے کے ریسرچ سیکشن کی انچارج تھی اور ادارے کے تمام پروگراموں میں عرصہ چار سال تک بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی رہی۔اسی دوران میں نے اپنی ذمہ داریوں سے مماثلت اور دلچسپی کی بنا پر اپنی پہلی کتاب ”Taboo“ پر کام شروع کیاجو کہ پرفارمنگ آرٹ کے مخفی پہلوؤں پر مشتمل تھی۔اب بیس سال سے زائد عرصے کے بعد جس دوران میں نے یونائیٹڈ نیشن، مقامی نجی اداروں، انسانی حقوق اور ثقافتی جانکاری کے حوالے سے کام کرتی رہی۔ بعد ازاں جب مجھے دوبارہ لوک ورثہ میں بطور ایگزیکٹو ڈائریکٹر ذمہ داریاں سونپی گئیں تو یہ میرے لئے انتہائی خوشی اور فخر کی بات تھی۔ لو ک ورثہ کا قیام ۴۷۹۱ء میں عمل میں آیا۔ اُس دور میں ذوالفقار علی بھٹو نے ثقافت کے حوالے سے اپنے تصور کو عملی شکل دینے کے لئے معروف شاعر فیض احمد فیض کو ذمہ داری سونپی۔ جنہوں نے پاکستان کی پہلی ثقافتی پالیسی لکھی اور لوک ورثہ کا تصور پیش کیا۔ لوک ورثہ کے پہلے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عکسی مفتی تھے جنہوں نے اس ادارے کے مختلف سیکشنز جن میں آڈیو، وڈیو آرکائیو، میوزیم گیلریز، ریسرچ اور پبلیکیشن سیکشن وغیرہ بنا کر کام کا آغاز کیا۔ بعد میں آنے والے ادارے کے دیگر سربراہوں نے اس میں ڈاکومنٹیشن کا بھی اضافہ کیا اور اپنے اپنے طریقہ کار کے مطابق ادارے کو چلایا۔ میں نے جتنا عرصہ لوک ورثہ میں گزارا تھا اُس دوران میری توجہ کا مرکز لوگوں کی عملی زندگی میں موجود اُن ثقافتی اقدار و روایات کی بحالی، اُن کا فروغ اور لوگوں کو اپنی ان ثقافتی روایات پر فخر کرنے اور انہیں اپنی عملی زندگی میں برتنے کا ہنر سکھانے پر رہی۔ نہ صرف یہ کہ لوک فنکاروں اور دستکاروں کو پرموٹ کیا جائے بلکہ اُن میں وہ صلاحیتیں بھی پیدا کی جائیں کہ وہ اپنے فن، اپنے ہنر کو آنے والی نسلوں میں منتقل کرنے کے قابل ہو سکیں۔ یہی نہیں بلکہ میں نے ثقافت سے وابستہ نجی اداروں کو بھی دعوت دی کہ وہ آئیں اور لوک ورثہ کے پلیٹ فارم سے اپنی کمیونٹی کے ساتھ اپنی زبان، اپنی ثقافت اور اپنی دستکاریوں کو متعارف کروائیں، کیونکہ ہماری گوناں گوں اور مختلف ثقافتی اکائیاں ایسے خوبصورت پھول ہیں جو مل کر ایک گلدستہ بنتے ہیں، پاکستان کا ایک خوبصورت ثقافتی گلدستہ۔ اس مقصد کے لئے میں نے انفرادی شخصیات، سوسائیٹیز، یونیورسٹیوں، ثقافتی اداروں، طالب علموں کے گروپس اور میڈیا کو بھی اپنے ساتھ شامل کیا ہے تا کہ ہم سب مل کر وسیع تر مقاصد کے حصول اور قوم کو اچھا مستقبل دینے میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔

TOP